بنگلورو، 24/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک انتخابات کی مہم زورں پر ہے۔ کانگر یس لیڈر راہل گاندھی بھی کرناٹک انتخابات کی مہم کے لئے 2 روزہ دورے پر اتوار کو بگل کوٹ پہنچے ۔ کانگر یس لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کو یہاں ایک بڑا روڈ شو کیا اور راستے کے دونوں طرف امڈی پر جوش بھیڑ کا ہاتھ ہلا کر استقبال کیا۔ کرناٹک میں 10؍مئی کو اسمبلی الیکشن کے لیے پولنگ ہوگی۔ خاص طور پر تیار کردہ ایک گاڑی میں کھڑے لوگوں کا ہاتھ ہلا کر مسلسل خیر مقدم کررہے تھے اور ان میں سے کئی لوگ ’راہل ، راہل‘ کے نعرے لگارہے تھے۔ انہوں نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمہ پر پھولوں کا ہار پہنا نے کے بعد روڈ شو کا آغاز کیا۔ راہل گاندھی اور کانگریس کے دیگر رہنماؤں کو لے جانے والی گاڑی شیواجی سرکل اور کنک داسا سرکل سے ہوتے ہوئے مختلف سڑکوں سے گزرا اور لوگ کانگریس کے پرچم لئے آگے بڑھ رہے تھے۔ کانگریس کی کرناٹک اکائی کی تشہیری مہم کمیٹی کے سربراہ یم بی پاٹل اور پارٹی کے کئی دیگر لیڈر اور کارکنان راہل گاندھی کے ساتھ روڈ شو میں شامل ہوئے۔
اس سے قبل یہاں راہل گاندھی نے سنگم ناتھ مندر اور کدال سنگم تیرتھ استھل کا دورہ کیا اور پوجا کی۔ راہل گاندھی کے سنگم ناتھ مندر اور کدال سنگم تیرتھ استھل کے دورے کو لنگایت برادری کو راغب کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بگل کوٹ میں منعقد ہ بسواجینتی تقریب میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ دوسروں سے سوال کرنا آسان ہے، لیکن خود سے سوال کرنا مشکل ہے۔ عظیم شاعر اور سماجی مصلح باس وننا کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ جہاں اندھیرا ہوتا ہے، اسی اندھیرے میں کہیں کہیں روشنی بھی نکلتی ہے۔ اس وقت سماج میں اندھیر تھا، اس لیے بسواجی اندھیرے میں روشنی بن کر نکلے۔
مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ یہ مت سوچیں کہ سماج کے سامنے سچ بولنا آسان ہے۔ آج ہم ان (بسویشور) کے سامنے پھول چڑھا رہے ہیں، لیکن جب وہ زندہ تھے تو انہیں بھی دھمکی دی گئی ہوگی، ان پر حملہ کیا گیا ہوگا ، لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے، انہوں نے سچائی کا راستہ نہیں چھوڑا ۔ اسی طرح آج حکمراں جماعت سچائی سے خوفزدہ ہے۔ واضح رہے کہ راہل گاندھی دہلی سے کرناٹک کے ہبلی پہنچے اور پھر ہبلی سے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ کدال سنگم اور سنگم ناتھ مندر پہنچے اور وہاں درشن کیے۔ بگل کوٹ ضلع میں کرشنا ندی اور مالا پربھا کے کنارے واقع کدال سنگم لنگایت کمیونٹی کے سب سے بڑے زیارت گاہوں میں شاملہے ۔ کدال سنگم میں لنگایت کمیونٹی کے سب بڑے گرو اور لنگایت کمیونٹی کے بانی بسویشور جنہیں باس وننا بھی کہا جاتا ہے ، کی سمادھی استھل ہے۔
کانگریس لیڈر کا یہ عوامی جلسہ دارلحکومت دہلی میں سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے ایک دن بعدا ہوا۔ بنگلہ خالی کرنے کے بعد انہوں نے مرکز پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سچائی کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ کانگریس اور راہل گاندھی کی اس پوری مشق کو لنگایت کمیونٹی کو لبھانے کی کوشش کے پر دیکھا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ ریاست میں لنگایت کمیونٹی ریاست کی کل آبادی کا 17 فیصد ہے اور کرناٹک کی سیاست میں ان کہ بہت اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں لنگایت کمیونٹی کو اپنے حق میں لانے کی کوششیں کرتی ہیں ۔ عام طور پر کرناٹک میں لنگایت ووٹ بینک کو بی جے پی کا حامی سمجھا جاتا ہے، لیکن اس بار کانگریس نے بی جے پی کے اس ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کی تیاری کی ہے۔ راہل گاندھی کے دورے بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔